پیرس: فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مکمل پابندی کی تجویز پیش کر دی گئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق فرانسیسی پارلیمانی کمیشن نے چھ ماہ تک ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بچوں اور نوجوانوں پر نفسیاتی اثرات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اپنی رپورٹ جاری کی۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ 15 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے سے مکمل طور پر روکا جائے، جبکہ 15 سے 18 سال تک کے نوجوانوں کے لیے رات 10 بجے سے صبح 8 بجے تک ’’ڈیجیٹل کرفیو‘‘ نافذ کیا جائے تاکہ وہ دیر رات تک ان پلیٹ فارمز پر سرگرم نہ رہیں۔
کمیشن نے مزید کہا ہے کہ عوامی سطح پر سوشل میڈیا کے نقصانات سے آگاہی مہم چلائی جائے، اکاؤنٹ بناتے وقت عمر کی تصدیق کا لازمی نظام متعارف کرایا جائے اور والدین کی نگرانی کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
یہ تجاویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب گزشتہ سال 2024 میں فرانس کے سات خاندانوں نے ٹک ٹاک کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ ان کے بچوں کو ایسا مواد دکھایا گیا جس نے انہیں خودکشی جیسے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔
ٹک ٹاک انتظامیہ نے اس حوالے سے کہا ہے کہ پلیٹ فارم نے گزشتہ سال فرانس میں مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے 98 فیصد غیر مناسب مواد ہٹا دیا تھا۔



















