سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت اور ان کا وژن ملک بھر کے سیلاب متاثرین کے لیے امید کی کرن ہے۔ ان کے مطابق بلاول بھٹو عوام کے دکھ درد کو اپنا سمجھتے ہیں اور اسی جذبے کے تحت پیپلز پارٹی متاثرین کی مکمل بحالی تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔
انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے حالیہ دنوں میں اپنے ٹویٹ میں سیلاب متاثرین سے متعلق جو مؤقف اختیار کیا، وہ ان کی عوام دوستی اور دور اندیشی کی روشن مثال ہے۔ ان کے مطابق چیئرمین پیپلز پارٹی نے ہمیشہ مشکل وقت میں عوام کا ساتھ دیا ہے اور آج بھی ان کی اولین ترجیحات میں غریب، کسان اور قدرتی آفات سے متاثرہ خاندان شامل ہیں۔
شرجیل انعام میمن نے وفاقی حکومت کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا کہ بلاول بھٹو کے مطالبے پر ماحولیاتی اور زرعی ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بلاول بھٹو زرداری کی بصیرت افروز قیادت کا نتیجہ ہے کہ آج پورے ملک کی توجہ متاثرین کی جانب مبذول ہو رہی ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت نے اب تک بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سیلاب زدگان کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان نہیں کیا، حالانکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بلاول بھٹو کو ذاتی طور پر یقین دہانی کرائی تھی۔ ان کے مطابق گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، پنجاب اور خاص طور پر جنوبی پنجاب کے عوام اس ریلیف کے منتظر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو نے بالکل درست نشاندہی کی کہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کے ذریعے عالمی امداد کی اپیل میں تاخیر ناقابل فہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہر فورم پر عوام کی آواز بنے گی اور ایوانوں میں قراردادیں پیش کی جائیں گی تاکہ متاثرین کی بحالی کے اقدامات کو قومی ایجنڈا بنایا جا سکے۔
شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ دورہ جات میں وسطی پنجاب، جنوبی پنجاب اور سندھ کے متاثرہ علاقوں کا ذاتی طور پر جائزہ لیا۔ ان دوروں کے بعد انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیر زراعت سے ملاقاتیں کیں تاکہ کسانوں کی بحالی اور زرعی شعبے کے استحکام کے لیے عملی منصوبہ بندی کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور کسان کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنا بلاول بھٹو زرداری کے وژن کا اہم حصہ ہے۔ ان کے مطابق سندھ حکومت اس مقصد کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور وفاقی حکومت سے بھی بھرپور تعاون کی توقع رکھتی ہے۔



















