وزیراعظم محمد شہباز شریف کے سرکاری دورۂ ملائیشیا کے دوران ان کی ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم سے ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارت میں اضافے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے آج پتراجایا میں پردانا پوترا میں ملائیشین وزیراعظم عزت مآب داتو سری انور ابراہیم سے ملاقات کی۔ پردانا پوترا آمد پر ان کے اعزاز میں باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی، جہاں ملائیشین مسلح افواج کے دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا اور دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔
اس موقع پر دونوں وزرائے اعظم نے وفود کی سطح پر مذاکرات کی قیادت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے اور وفد کے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر ملائیشین قیادت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ملائیشیا ان کے لیے دوسرے گھر کی مانند ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اکتوبر 2024 میں انور ابراہیم کے دورۂ پاکستان کے بعد دوطرفہ تعاون میں مسلسل پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے تعلقات کے تمام پہلوؤں، خصوصاً تجارت، معیشت، سرمایہ کاری، تعلیم، ٹیکنالوجی، زراعت، حلال انڈسٹری، گرین انرجی، الیکٹرانکس، آٹوموٹیو، سیاحت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے شعبوں میں شراکت داری بڑھانے پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان سے ملائیشیا کو حلال گوشت کی برآمدات کا کوٹا 200 ملین امریکی ڈالر تک بڑھانے اور چاول کی برآمدات میں اضافہ ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا۔
علاقائی و بین الاقوامی امور پر گفتگو کرتے ہوئے ملائیشین وزیراعظم نے فلسطین کے مسئلے کے حل اور امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا، خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ مداخلت پر پاکستان کے تعمیری مؤقف کی تعریف کی۔
دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ (UN) اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) سمیت کثیرالجہتی فورمز پر تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ وزیراعظم انور ابراہیم نے جموں و کشمیر کے مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے پاکستان کی حمایت کی توثیق کی۔
انہوں نے پاکستان اور آسیان تعلقات کو مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا، اور وزیراعظم شہباز شریف نے ملائیشیا کو آسیان کی سربراہی سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے، پاکستان کو آسیان کا مکمل ڈائیلاگ پارٹنر بنانے کے لیے ملائیشیا کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
دونوں ممالک کے درمیان سفارتکاروں کی تربیت، سیاحت، حلال سرٹیفکیشن، اعلیٰ تعلیم، کرپشن کے خاتمے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ سے متعلق مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے گئے۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے وزیراعظم انور ابراہیم کی کتاب “اسکرپٹ” کی رونمائی میں بھی شرکت کی۔
ملائیشین وزیراعظم نے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے وفد کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا۔ بعدازاں دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
پریس کانفرنس میں انور ابراہیم نے کہا کہ دونوں ممالک غزہ میں فلسطینی عوام پر ہونے والے مظالم کے خلاف متحد ہیں اور خطے میں امن کے قیام کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ پاکستان اور ملائیشیا کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تعاون جاری رہے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے تعلقات اعتماد اور احترام کی بنیاد پر قائم ہیں، اور دونوں ممالک تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے حلال گوشت کی برآمدات میں اضافے کے فیصلے کو سراہا اور کہا کہ مستقبل میں دونوں ممالک اس تجارت کو مزید وسعت دیں گے۔
وزیراعظم نے انور ابراہیم کی کتاب “اسکرپٹ” کو فکری و تہذیبی پل قرار دیا اور کہا کہ یہ اسلام آباد اور کوالالمپور کے درمیان فہم و شعور کے تبادلے کا ذریعہ بنے گی۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے انور ابراہیم کے اصرار پر علامہ اقبال کے اشعار بھی پڑھے۔
دورے کے دوران وزیراعظم نے پاکستان-ملائیشیا بزنس فورم سے بھی خطاب کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان آئی ٹی، الیکٹرانکس، تیل و گیس اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “پاکستان میں سیاحت کا شعبہ بے پناہ پوٹینشل رکھتا ہے اور دونوں ممالک کی کمپنیاں اس شعبے میں مل کر کام کریں۔”



















