سندھ میں ڈینگی وائرس کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 4 مریض جان کی بازی ہار گئے، جس کے بعد رواں سال کے دوران صوبے بھر میں ڈینگی سے ہونے والی اموات کی تعداد بڑھ کر 25 ہو گئی ہے۔ اس تیزی سے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ نے شہریوں اور محکمہ صحت دونوں کے لیے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
محکمہ صحت سندھ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران صوبے میں 1,192 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں کراچی کے 642 اور حیدرآباد کے 550 مریض شامل ہیں۔ اس طرح رواں سال سندھ میں ڈینگی کے کیسز کی مجموعی تعداد 10,502 تک پہنچ گئی ہے، جو وائرس کے خطرناک پھیلاؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبے کے مختلف سرکاری اسپتالوں میں 227 اور نجی اسپتالوں میں 212 مریض زیر علاج ہیں۔ ڈینگی کی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر کراچی میں 257 سرکاری اور 195 نجی بستر مختص کیے جا چکے ہیں تاکہ بڑھتے ہوئے مریضوں کو فوری طبی سہولت فراہم کی جا سکے۔
محکمہ صحت کے مطابق کراچی میں 37 لیبارٹریز ڈینگی ٹیسٹنگ کی سہولت فراہم کر رہی ہیں، جن میں 12 سرکاری جبکہ 25 نجی لیبارٹریز شامل ہیں۔ اسی طرح حیدرآباد میں اس وقت 18 لیبارٹریز فعال ہیں جن میں 7 سرکاری اور 11 نجی شعبہ جات کام کر رہے ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جاں بحق ہونے والوں میں 3 کم عمر بچے اور ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حیدرآباد میں 3 سالہ بچی، بدین میں 6 سالہ بچہ، جبکہ کراچی میں 11 سالہ بچہ اور 30 سالہ خاتون ڈینگی وائرس کا شکار ہو کر انتقال کر گئے، جس سے صورتحال مزید افسوسناک اور تشویشناک ہو گئی ہے۔



















