راولپنڈی میں آج اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا دن مقرر ہے، جہاں عمران خان سے ان کے اہل خانہ، وکلا اور پارٹی قیادت کی ملاقاتوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر کسی بھی ممکنہ صورتحال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے تین روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے، جس کے تحت سیاسی اور مذہبی نوعیت کے ہر اجتماع پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔
جیل کے اطراف میں سیکورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں نجی تعلیمی ادارے بھی احتیاطی طور پر بند کرا دیے گئے ہیں۔ اڈیالہ روڈ پر آج صبح سے غیر معمولی طور پر پولیس اور دیگر سیکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات دیکھی گئی۔
پی ٹی آئی کی جانب سے چھ وکلا پر مشتمل فہرست جیل حکام کے حوالے کی گئی ہے، جن میں پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان، سلمان اکرم راجا، بیرسٹر سلمان صفدر کے علاوہ علی زمان، سردار نبی اور طلعت محمود شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق فہرست میں شامل تمام افراد کو باری باری ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔ عمران خان کی بہنیں بھی آج جیل پہنچی ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی آمد بھی متوقع ہے۔ پارٹی نے منتخب ارکان اسمبلی کو بھی جیل پہنچنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
انتظامیہ نے اڈیالہ روڈ کے داخلی و خارجی راستوں پر پانچ اضافی چیک پوسٹیں قائم کی ہیں، جبکہ متعدد ناکوں پر پولیس کی اضافی نفری گشت کرتی رہی۔ دہگل ناکا، گیٹ ون، گیٹ فائیو، فیکٹری ناکا اور گورکھپور کے مقامات پر خصوصی چیکنگ کا سلسلہ جاری ہے، جہاں خواتین اہلکار بھی موجود ہیں۔
مجموعی طور پر بارہ تھانوں کے ایس ایچ اوز کو نگرانی کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، جبکہ سات سو سے زائد اہلکار علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تعینات رہیں گے۔ سیکورٹی پر مامور دستوں کو اینٹی رائٹ کِٹ فراہم کر دی گئی ہے، جبکہ اضافی نفری کو بھی اسٹینڈ بائی پر رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔ جیل کے راستے آنے والی ہر گاڑی کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد ہی اسے آگے بڑھنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سرگرم ہیں، اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی ایکشن ناگزیر ہوگا۔



















