راولپنڈی: بانی تحریکِ انصاف عمران خان کی بہن علیمہ خان نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی عمران خان کی تصویر کو اصل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تصویر اگرچہ پرانی ہے مگر حقیقی لگتی ہے اور میڈیا کو خود اس کی تصدیق کرنی چاہیے۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت راولپنڈی میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ جو جج آئین اور قانون کے مطابق انصاف فراہم نہیں کر سکتے، انہیں اپنی نشست چھوڑ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ بانی پی ٹی آئی کی رہائی چاہتے ہیں وہ ان کی جدوجہد کا حصہ ہیں، جبکہ علیمہ خان گروپ اور بشریٰ بی بی گروپ سے متعلق باتیںیں ایجنسیوں کی جانب سے پھیلایا گیا پروپیگنڈا ہیں۔ علیمہ خان نے کہا کہ شیر افضل مروت سے متعلق بعض بیانات کو سنجیدہ لینے پر انہیں حیرت ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے، جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق تشدد کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ کسی کو بھی پانچ روز سے زیادہ اکیلا رکھنا ٹارچر سمجھا جاتا ہے، اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات ان کا آئینی، قانونی اور اخلاقی حق ہے مگر ملاقاتوں میں مسلسل رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں، کبھی ملاقات نہیں کروائی جاتی اور کبھی پانی تک پھینک دیا جاتا ہے مگر وہ اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ایجنسیوں سے روابط کے الزامات سے متعلق سوال پر علیمہ خان نے جواب دیا کہ کون سی ایجنسی؟ ایم آئی یا آئی ایس آئی؟ یہ سب ہماری اپنی ایجنسیاں ہیں، جس کا دل چاہے ان کا نام لے، وہ سب کا بوجھ اٹھانے کو تیار ہیں، عدالت میں گواہی دینے والوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ لوگ سپاہی ہیں جو قرآن پر جھوٹی گواہی دے رہے ہیں، اصل ذمہ دار وہ ہیں جو انہیں گواہی دینے پر مجبور کرتے ہیں۔
علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے تحریکِ انصاف انصاف، آئین، قانون اور جمہوریت کے لیے بنائی اور وہ گزشتہ ڈھائی سال سے انہی اصولوں کی خاطر جیل میں ہیں،عمران خان دو چیزیں کبھی نہیں چھوڑتے، ایک اللہ پر یقین اور دوسری ورزش، حتیٰ کہ قید میں بھی وہ ورزش جاری رکھتے ہیں۔
علیمہ خان نے واضح کیا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی آئین کی بالادستی، 26ویں اور 27ویں ترامیم اور شفاف انتخابات کے معاملے پر کسی قسم کی ڈیل یا سمجھوتہ نہیں کریں گے جبکہ عدالتوں میں روزانہ اخلاقیات کا جنازہ نکلتا دکھائی دے رہا ہے۔



















