کراچی: سال 2026 کے آغاز کے پہلے ہی دن پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی، جہاں سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور مجموعی مثبت رجحان کے باعث حصص بازار نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔
نئے سال کے آغاز پر جیسے ہی کاروبار کا آغاز ہوا، مارکیٹ میں خریداری کا رجحان نمایاں طور پر غالب رہا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای ہنڈرڈ انڈیکس میں واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس ایک موقع پر ایک لاکھ 76 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد بھی عبور کر گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ تیزی اس بات کی عکاس ہے کہ سرمایہ کار نئے سال میں ملکی معیشت اور حصص بازار کے مستقبل کے حوالے سے خاصے پُرامید نظر آ رہے ہیں۔
کاروباری روز کے آغاز سے ہی مارکیٹ میں مجموعی طور پر مثبت ماحول قائم رہا، جبکہ مختلف شعبوں کے حصص میں خریداروں کی دلچسپی میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس مسلسل خریداری کے رجحان کے باعث ہنڈرڈ انڈیکس میں بہتری کا سلسلہ جاری رہا اور ایک موقع پر انڈیکس 1954 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 76 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا۔
بعد ازاں بھی مارکیٹ میں تیزی کا تسلسل برقرار رہا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے خریداری کا دباؤ غالب دکھائی دیا، جس کے باعث مجموعی طور پر حصص بازار میں اعتماد اور استحکام کی فضا قائم رہی۔
کاروباری دورانیے کے دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا ہنڈرڈ انڈیکس 1954 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 176008 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کرتا دکھائی دیا۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق نئے سال کے آغاز پر اس نوعیت کا اضافہ حالیہ برسوں میں نمایاں اور بڑے اضافوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران معاشی اشاریوں میں بہتری، مالیاتی نظم و ضبط اور پالیسیوں میں تسلسل جیسے عوامل نے مارکیٹ کے اعتماد کو مضبوط کیا ہے، جس کا واضح اثر نئے سال کے پہلے ہی روز حصص بازار میں دیکھنے کو ملا۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار رہا تھا، جب ہنڈرڈ انڈیکس نے ایک لاکھ 75 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کی تھی۔ گزشتہ روز کی تیزی کے تسلسل نے نئے سال کے پہلے دن سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید تقویت دی اور مارکیٹ نے ایک اور اہم سنگ میل عبور کر لیا۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق نئے سال کے آغاز پر اس قدر مضبوط تیزی متعدد عوامل کا نتیجہ ہو سکتی ہے، جن میں پالیسیوں کا تسلسل، معاشی بہتری کی توقعات، شرح سود سے متعلق عوامل اور کاروباری سرگرمیوں میں ممکنہ اضافے جیسے عناصر شامل ہیں۔ اگر یہی اعتماد اور مثبت رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں بھی اتار چڑھاؤ کے باوجود مارکیٹ کی مجموعی سمت مثبت رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔



















