کراچی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے بتایا ہے کہ گل پلازہ سانحے میں جاں بحق ہونے والے 71 افراد کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے، جن میں سے اب تک 16 لاشوں کی شناخت ممکن ہو سکی ہے۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سمیعہ سید نے کہا کہ عمارت سے ملنے والی 6 لاشیں ایسی تھیں جو قابلِ شناخت حالت میں تھیں، جب کہ 8 لاشوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ممکن بنائی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک لاش کی شناخت قومی شناختی کارڈ کی مدد سے کی گئی، جبکہ ایک اور لاش کی شناخت گلے میں پہنے گئے لاکٹ کے ذریعے ہوئی۔
ڈاکٹر سمیعہ سید کا کہنا تھا کہ شدید طور پر جھلس جانے کی وجہ سے بیشتر لاشوں کے ڈی این اے نمونے حاصل کرنا ایک پیچیدہ اور وقت طلب عمل ثابت ہو رہا ہے، تاہم شناخت کا عمل جاری ہے۔
دوسری جانب سینئر فائر آفیسر ظفر خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گل پلازہ کی عمارت کے تہہ خانے میں ایک بار پھر آگ بھڑک اٹھی تھی، جسے فوری کارروائی کرتے ہوئے بجھا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عمارت کی چھت سے ڈیزل ٹینک بروقت نہیں اتارا گیا تھا اور جب ڈیزل ٹینک اتارنے کی کوشش کی گئی تو اس دوران آگ لگ گئی، جس پر قابو پا لیا گیا۔
ظفر خان نے مزید کہا کہ آگ کے باعث عمارت کا اسٹرکچر شدید کمزور ہو چکا ہے، اب سرچ آپریشن آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے، تاہم ملبے سے مکمل لاشوں کے بجائے زیادہ تر ہڈیاں برآمد ہو رہی ہیں۔



















