امتِ مسلمہ آج شبِ برات نہایت عقیدت، احترام اور روحانی جذبے کے ساتھ منائے گی۔
اس بابرکت رات کی مناسبت سے ملک بھر کی مساجد، امام بارگاہوں اور دینی مراکز میں خصوصی شب بیداری کا اہتمام کیا گیا ہے، جہاں فرزندانِ اسلام نوافل، تلاوتِ قرآن، ذکرِالہیٰ اور درود و سلام میں مصروف رہیں گے۔
علمائے کرام نے اس موقع پر اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ شبِ برات وہ عظیم رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مغفرت فرماتا ہے اور بے شمار گناہوں سے نجات عطا کرتا ہے۔
شبِ برات کے موقع پر شہری بڑی تعداد میں مساجد کا رخ کرتے ہیں، جہاں رات بھر نفلی عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اہلِ ایمان اپنی ذات، اپنے اہلِ خانہ، مرحومین اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے دعائیں مانگتے ہیں۔ مساجد میں حسنِ قرات، حمد و نعت اور روح پرور محافل منعقد کی جاتی ہیں، جن میں علما شبِ برات کی فضیلت، اس کی روحانی اہمیت اور توبہ و استغفار کی تلقین کرتے ہیں۔
شبِ برات کو لیلۃ المبارکہ اور لیلۃ الرحمۃ بھی کہا جاتا ہے۔ علما کے مطابق یہ رات دراصل بندے اور رب کے درمیان تعلق کی تجدید کی رات ہے، جب انسان اپنے ماضی کے گناہوں پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ نیکی کی راہ پر چلنے کا عہد کرتا ہے۔ اس رات اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جھک کر مغفرت، رزق میں برکت، صحت اور دنیا و آخرت کی بھلائی کے لیے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔
شبِ برات کے موقع پر امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے سیکورٹی کے فول پروف انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے صوبے بھر میں سخت حفاظتی اقدامات کی ہدایت جاری کی ہے۔ لاہور پولیس کی جانب سے بھی شہر بھر میں اضافی نفری تعینات کی گئی ہے جب کہ حساس مقامات پر ایلیٹ فورس کے اہلکار بھی موجود ہیں۔
علمائے کرام کا کہنا ہے کہ شبِ برات محض عبادت تک محدود نہیں بلکہ یہ خود احتسابی، اصلاحِ نفس اور اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق قائم کرنے کی رات ہے۔ اہلِ ایمان اس رات کو غفلت کے بجائے بیداری، اخلاص اور عاجزی کے ساتھ گزارنے کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ ربِ کریم کی رحمتوں اور برکتوں سے مستفید ہو سکیں۔



















