اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں اور تمام فریقین کو علاقائی اور عالمی سلامتی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔
روس یوکرین جنگ کے چار سال مکمل ہونے کے موقع پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان شروع سے ہی اس تنازع کے حل کیلئے مذاکرات اور سفارتی ذرائع پر زور دیتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت ہی پائیدار حل کی بنیاد بن سکتی ہے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ خطے میں دیرپا امن صرف بامعنی اور سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2022 میں استنبول میں ہونے والے مذاکرات کی پاکستان نے حمایت کی تھی اور اس عمل کو مثبت پیش رفت قرار دیا تھا۔
پاکستانی مندوب نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ فریقین سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہوئے مسئلے کا پرامن اور قابلِ قبول حل تلاش کریں گے، تاکہ خطے میں استحکام اور امن کو یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب یوکرین کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کیلئے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایفل ٹاور کو یوکرین کے قومی پرچم کے رنگوں سے روشن کیا گیا، جس کے ذریعے عالمی برادری کی جانب سے حمایت کا اظہار کیا گیا۔



















