کراچی میں ماہ رمضان کے دوران گیسٹروانٹرائٹس کے مریضوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے شہریوں اور صحت کے نظام دونوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جناح اور سول اسپتال کے حکام نے بتایا کہ صرف گزشتہ سات روز میں 700 سے زائد افراد مختلف نوعیت کے معدے کے مسائل کے باعث اسپتال پہنچے ہیں، جن میں الٹیاں، اسہال، بخار، معدے میں شدید درد اور تیزابیت کے شکایات شامل ہیں۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ روزہ رکھنے کے دوران جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی گردوں کی کارکردگی متاثر کر سکتی ہے اور شدید صورت میں گردے فیل ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جسم میں پانی کی کمی اور نمکیات کی عدم موجودگی انفیکشن کے پھیلاؤ کا سبب بھی بن سکتی ہے، جس سے صحت کی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
ماہرین نے شہریوں کو رمضان میں افطار کے دوران سادہ اور تازہ غذا استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے اور تلی ہوئی اشیاء، جن میں زیادہ چکنائی یا مصالحہ جات ہوں، سے اجتناب کرنے پر زور دیا۔
صحت کے ماہرین نے واضح کیا کہ پھل اور سبزیوں کا استعمال لازمی اور زیادہ سے زیادہ ہونا چاہیے اور ان کو استعمال سے پہلے اچھی طرح دھونا ضروری ہے۔
یہ صورتحال شہریوں کے لیے وارننگ ہے کہ افطار اور سحری میں غذائی انتخاب میں احتیاط نہ کریں تو معمولی گیسٹرو کی بیماری سنگین پیچیدگیوں میں بدل سکتی ہے، جس سے اسپتالوں پر بوجھ اور عوام کی صحت دونوں متاثر ہوں گے، ہاتھوں کی صفائی اور باہر کی غیر معیاری یا مشکوک خوراک سے پرہیز بھی اس وقت انتہائی اہم ہے۔ رمضان کے دوران غذائی احتیاط نہ صرف معدے کی بیماریوں سے بچاؤ میں مددگار ہے بلکہ مجموعی طور پر جسمانی توانائی اور مدافعتی نظام کو بھی مستحکم رکھتی ہے۔



















