ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی وفات کے بعد پاکستان میں مختلف مقامات پر غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی اور کشیدگی کے پیش نظر احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور میں اسلامی جمعیت طلبہ کے زیر اہتمام سائنس کالج میں آیت اللہ خامنہ ای کے لیے غائبانہ نماز جنازہ کا اہتمام کیا گیا، نماز جنازہ میں شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی، نماز جنازہ کے بعد شہداء کی بخشش جنگ میں ایران کی فتح کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
کالج کے ناظم عبداللہ بن عباس نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی وفات ایک عظیم سانحہ ہے اور یہ لمحہ تمام مسلمانوں کے لیے غم و افسوس کا ہے۔
اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات سیف اللہ فاروق چوہان اور ناظم سائنس کالج شماس اشرف نے بھی اظہارِ تعزیت کیا۔ اسلامی جمعیت طلبہ لاہور نے اعلان کیا کہ وہ پورے لاہور کے تعلیمی اداروں میں مرحوم سپریم لیڈر کے لیے غائبانہ نماز جنازہ کے پروگرام منعقد کرے گی۔
دوسری جانب پشاور میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام بھی ایک خصوصی غائبانہ نماز جنازہ کا انعقاد کیا گیا۔ نماز جنازہ میں امیر جماعت اسلامی وسطی اضلاع عنایت اللہ خان کے ساتھ صوبائی اور مقامی رہنماوں اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
نماز کے بعد جماعت اسلامی نے احتجاجی ریلی بھی نکالی، جو مرکز اسلامی چمکنی سے شروع ہو کر مختلف سڑکوں سے گزری۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں سیاہ پرچم اٹھا رکھے تھے اور ایران پر ہونے والے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کے ساتھ اسرائیل اور امریکا کے خلاف نعرے بازی کی۔
واضح رہے کہ 1989ء سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہای امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے ہیں، وہ اپنے دفتر میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہے تھے، ایرانی حکومت نے ان کی شہادت پر سات روزہ تعطیل اور چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
ایران نے خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اسرائیلی اور امریکی اڈوں پر حملوں کی نئی لہر شروع کی جائے گی۔



















