مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس کے براہِ راست اثرات پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں اور درآمدی معیشتوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک ہی دن میں 5 اعشاریہ 79 فیصد اضافے کے بعد 77 اعشاریہ 09 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد مجموعی طور پر خام تیل کی قیمت میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں قیمت 80 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں جاری بحران طویل ہو گیا اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتی ہے، جس سے عالمی معیشت پر مزید دباؤ پڑے گا۔
توانائی ماہرین کے مطابق عالمی قیمتوں میں اس اضافے کے نتیجے میں پاکستان میں آئندہ پندرہ روزہ نظرثانی کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 10 سے 15 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 20 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر خام تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 25 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔



















