سندھ کے ضلع سجاول میں رواں سال پولیو کا پہلا کیس رپورٹ ہوا ہے، جہاں چار سالہ بچہ وائلڈ پولیو وائرس سے متاثر پایا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کیس سجاول کی بیلو یونین کونسل میں سامنے آیا ہے جس کے بعد صحت کے اداروں نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں قائم قومی ادارہ صحت کی لیبارٹری نے متاثرہ بچے میں وائلڈ پولیو وائرس کی موجودگی کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے، جس کے بعد علاقے میں نگرانی اور احتیاطی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
صحت حکام کے مطابق پولیو وائرس اب بھی سندھ اور جنوبی خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں گردش کر رہا ہے جس کے باعث بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے کی مہم کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔
حکام نے بتایا کہ سال 2026 کے دوران اب تک چار کروڑ پچاس لاکھ سے زائد بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائے جا چکے ہیں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اپریل میں ملک بھر میں انسداد پولیو کی نئی قومی مہم شروع کی جائے گی جس کے دوران لاکھوں بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔



















