وفاقی حکومت نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت بچنے والے 23 ارب روپے عوام کو سبسڈی کی صورت میں دینے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کا مقصد عام شہریوں کو مہنگائی کے اثرات سے کچھ حد تک ریلیف فراہم کرنا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں سیکرٹری پیٹرولیم نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ سبسڈی موٹر سائیکل اور رکشہ رکھنے والے افراد کو فراہم کی جائے گی، جس سے تقریباً 30 ملین ٹو ویلرز اور تھری ویلرز مالکان مستفید ہوں گے۔
حکام کے مطابق سبسڈی کی تقسیم بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کی بنیاد پر مستحق افراد تک پہنچائی جائے گی، جبکہ اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن نے اس حوالے سے عملی کام کا آغاز کر دیا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ کفایت شعاری پالیسی کے تحت ہونے والی بچت کو براہ راست عوامی ریلیف میں منتقل کیا جائے گا، جیسا کہ کورونا کے دوران بھی کیا گیا تھا۔
اجلاس کے دوران کمیٹی اراکین نے سوال اٹھایا کہ یہ 23 ارب روپے کہاں سے حاصل کیے جائیں گے اور کن اقدامات کے تحت بچت ممکن ہوئی، جبکہ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ روپے کی قدر میں بہتری کا فائدہ کمپنیوں کے بجائے عوام تک پہنچایا جائے۔ اس پر حکام نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق مختلف سطح پر بچت کے اقدامات کیے گئے ہیں۔
اجلاس میں سیکرٹری پیٹرولیم نے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں سپلائی کی صورتحال پر بھی بریفنگ دی اور بتایا کہ عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمت 88 ڈالر سے بڑھ کر 187 ڈالر جبکہ پیٹرول 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی متاثر ہوئی ہے کیونکہ تقریباً 70 فیصد درآمدات اسی خطے سے ہوتی ہیں اور جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں، تاہم حکومت موجودہ ذخائر کے مؤثر استعمال کی کوشش کر رہی ہے۔
سیکرٹری پیٹرولیم کے مطابق اب یورو 5 معیار سے کم کوالٹی کے تیل کی درآمد کی اجازت بھی دی گئی ہے تاکہ سپلائی کو برقرار رکھا جا سکے، جبکہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ضرور ہوا ہے لیکن ملک بھر میں اس کی دستیابی برقرار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خام تیل کے ذخائر 11 دن، ڈیزل کے 21 دن اور پیٹرول کے ذخائر 27 دن تک کے لیے موجود ہیں، جبکہ ایل پی جی کے 9 دن اور جیٹ فیول کے 14 دن کے ذخائر دستیاب ہیں۔ مزید یہ کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہفتہ وار بنیادوں پر کرنے پر غور کیا جا رہا ہے اور روس سے تیل کی خریداری کے امکانات بھی تلاش کیے جا رہے ہیں۔



















