امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تیل کی قیمتیں کم کرنے کے لیے پیش کیے گئے منصوبے کے باوجود عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل مستحکم رہی ہیں اور ان میں کسی نمایاں کمی کا رجحان سامنے نہیں آیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 108 ڈالر فی بیرل کے قریب برقرار ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ پر دباؤ بدستور قائم ہے۔ آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی فوجی کمانڈ سینٹکام نے “پروجیکٹ فریڈم” کے تحت جہازوں کو مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم سیکیورٹی اسکواڈ سے متعلق مکمل تفصیلات سامنے نہ آنے کے باعث مارکیٹ میں اعتماد بحال نہیں ہو سکا اور خدشات برقرار ہیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے امریکی منصوبے میں تعاون سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی امریکی مداخلت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، اور اس طرح کے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق موجودہ توانائی بحران جدید تاریخ کی بڑی رکاوٹوں میں شامل ہو چکا ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف بیانات اور اعلانات سے تیل کی سپلائی بحال نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات اور مؤثر سیکیورٹی انتظامات ناگزیر ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک عالمی سطح پر تیل کی یومیہ پیداوار میں 14.5 ملین بیرل کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد 129 سے کم ہو کر چند درجن تک محدود ہو گئی ہے۔
اگرچہ عالمی منڈی کو آئندہ ہفتوں میں بہتری کی امید ہے، تاہم انفرااسٹرکچر کی تباہی اور مسلسل سیکیورٹی خدشات کے باعث قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔



















