حکومت نے ملک میں جاری گیس بحران سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور بڑے ایکشن پلان کی تیاری شروع کر دی ہے، جس کے تحت توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور مؤثر انتظامی اقدامات کو یقینی بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا فیصلہ کرتے ہوئے ادارہ جاتی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ہدایت کی ہے، جبکہ گیس کی فراہمی، قیمت اور طلب کے مؤثر انتظام کے لیے ایک جامع حکومتی فریم ورک بھی تیار کر لیا گیا ہے تاکہ نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔
وزیراعظم کی ہدایت پر نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت ایک مربوط نظام متعارف کرایا جائے گا، جبکہ پاور ٹاسک فورس کے اقدامات کو بھی اسی کونسل کے دائرہ کار میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ پالیسی سازی میں یکسانیت پیدا کی جا سکے۔
وزیراعظم نے سیکرٹری پیٹرولیم سے تفصیلی بریفنگ طلب کر لی ہے اور گیس اصلاحات پر پیشرفت رپورٹ 8 مئی تک جمع کرانے کی ہدایت جاری کی ہے، جبکہ یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ انہیں ہر ماہ گیس اصلاحات سے متعلق رپورٹ پیش کی جائے گی تاکہ نگرانی کا عمل جاری رکھا جا سکے۔
فیصلہ کیا گیا ہے کہ گیس کی سپلائی میں بہتری آنے تک نئے آر ایل این جی کنکشنز کو عارضی طور پر معطل رکھا جائے گا، جبکہ اضافی گیس کے حصول کے لیے تلاش و پیداوار کمپنیوں سے ہفتہ وار رپورٹس طلب کر لی گئی ہیں، جن میں ماڑی، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، مول اور یو ای پی شامل ہیں۔
حکومت نے گیس کی دستیابی بڑھانے کے لیے ہنگامی اقدامات تیز کرنے اور طلب و رسد میں توازن قائم کرنے کے لیے نئی حکمت عملی تیار کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، تاکہ بحران پر قابو پایا جا سکے۔
مزید برآں، گھریلو گیس طلب کی منصوبہ بندی میں بڑی تبدیلیوں کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ گیس لوڈشیڈنگ کے اوقات کا ازسرنو جائزہ لینے اور نقصانات میں کمی کے لیے اقدامات تیز کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
حکومت نے مہنگی درآمدی گیس کے بجائے سستی مقامی گیس کے استعمال کو فروغ دینے کا منصوبہ بنایا ہے، جبکہ گیس کی قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اضافی آمدن کے حصول کے لیے نئی حکمت عملی بھی تیار کی جا رہی ہے۔
اوگرا اور متعلقہ ٹاسک فورس کو ان اقدامات کے مالی اثرات کا تخمینہ لگانے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے تاکہ مستقبل کی پالیسی سازی میں سہولت ہو سکے۔



















