امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق آپریشن عارضی طور پر روکنے اور ایران کے ساتھ ممکنہ ڈیل پر پیشرفت کے اعلان کے بعد عالمی مالیاتی مارکیٹس میں مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔
ایشیا کی بڑی اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں تیزی دیکھی گئی، جہاں جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 7.85 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ چین کا شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس 1.27 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا، جس سے خطے کی مارکیٹس میں مثبت رجحان نمایاں رہا۔
اس کے علاوہ ہانگ کانگ اور بھارت کی اسٹاک مارکیٹس میں بھی کاروبار کے دوران مثبت رجحان دیکھنے میں آیا، جہاں سرمایہ کاروں نے عالمی کشیدگی میں ممکنہ کمی کو خوش آئند قرار دیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی زبردست تیزی ریکارڈ کی گئی، جہاں 100 انڈیکس 3066 پوائنٹس اضافے کے بعد 167 ہزار 808 کی سطح پر پہنچ گیا، جو 1.86 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے اور مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد کی نشاندہی کرتا ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں برینٹ خام تیل 108 ڈالر فی بیرل جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 100.6 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گیا۔
ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی کی بنیادی وجہ عالمی کشیدگی میں ممکنہ کمی اور سپلائی سے متعلق خدشات میں نرمی کو قرار دیا جا رہا ہے، جس کے باعث عالمی مارکیٹس میں استحکام کی امید پیدا ہوئی ہے۔



















