کراچی: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے شہر میں تیز بارش کے امکانات پر نکاسیٔ آب کو ایک بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سمندر میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث کریک کا پانی نہرِ خیام میں داخل ہو رہا ہے، اور اگر بارش کی شدت میں اضافہ ہوا تو نکاسیٔ آب کے نظام پر دباؤ بڑھ جائے گا۔
میئر کراچی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ معاملہ وسائل یا اختیارات کا نہیں بلکہ نیت اور بروقت عملدرآمد کا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نالوں کی صفائی کا کام اطمینان بخش ہے اور اورنگی، گجر اور محمود آباد نالوں پر مکمل صفائی کی جا چکی ہے، جبکہ چھوٹے نالوں پر بھی مشینری بدستور کام کر رہی ہے۔ انڈر پاسز میں پانی کی نکاسی کے لیے پمپس نصب ہیں، اور نشیبی علاقوں میں عملہ بھی تعینات کیا گیا ہے تاکہ ہنگامی حالات میں فوری کارروائی کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ نالوں کی گنجائش 40 ملی میٹر بارش تک ہے، اس سے زیادہ بارش کا اثر لازمی طور پر نظر آتا ہے۔ بارش کے دوران شہری گھبراہٹ میں دفاتر اور گھروں سے نکلنے لگتے ہیں جس سے ریلیف سرگرمیوں میں مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ ان کے مطابق مختلف شاہراہوں پر کیمپس قائم کیے گئے ہیں جہاں پانی اور بسکٹ فراہم کیے گئے ہیں تاکہ شہری ضرورت پڑنے پر سہولت حاصل کر سکیں۔
میئر کراچی نے شہریوں سے اپیل کی کہ بارش کے دوران غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلیں۔ بارش کے بعد متاثرہ علاقوں کو صاف کرنے اور پانی نکالنے میں کم از کم دو گھنٹے درکار ہوتے ہیں، جبکہ عملہ دو سے ڈھائی گھنٹوں میں نشیبی علاقوں سے پانی کلیئر کرنے کی بھرپور کوشش کرے گا۔
دوسری جانب محکمہ موسمیات کے ترجمان انجم نذیر نے خبردار کیا ہے کہ مون سون سسٹم اس وقت ’ڈیپ ڈپریشن‘ کی شکل میں موجود ہے، جو طوفان بننے سے پہلے کی اسٹیج ہوتی ہے۔ اس سسٹم کا مرکز اس وقت تھرپارکر میں ہے اور اس کے اثرات کراچی تک پہنچ سکتے ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ اس سسٹم کے باعث 60 سے 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل سکتی ہیں جبکہ سہ پہر میں کراچی میں شدید موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ کل یہ سسٹم کراچی کے قریب سے گزرے گا اور اس کے نتیجے میں شہر کی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ کراچی میں کمزور انفرااسٹرکچر کے باعث اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوسکتا ہے۔ ترجمان کے مطابق اس اسپیل کے دوران شہر میں 100 ملی میٹر سے زائد بارش ہو سکتی ہے، اس لیے شہری گھروں میں رہیں اور کچے انفرااسٹرکچر سے دور رہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔



















