چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کو چاہیے کہ وہ بانی پی ٹی آئی کے خط کو سنیں اور اس پر ریلیف فراہم کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی کسی شہری کی جانب سے چیف جسٹس کو خط لکھا جاتا ہے تو اسے پٹیشن تصور کر کے سماعت کی جاتی ہے، اسی طرح بانی پی ٹی آئی کے خط کو بھی زیر سماعت لایا جانا چاہیے۔
پشاور میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے توشہ خانہ ٹو کیس سمیت دیگر مقدمات پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام کیسز بے بنیاد ہیں اور محض سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ تمام گواہان بوگس اور غیر معتبر ہیں جنہیں دباؤ کے تحت بیان دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف درج کیسز کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ان مقدمات کو سیاسی انتقام کی ایک کڑی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انصاف کے تقاضوں کے تحت ان کا جلد از جلد فیصلہ ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ توشہ خانہ ٹو کیس میں دو اہم گواہان کے بیانات سامنے آ چکے ہیں۔ پرائیویٹ اپریزر صہیب عباسی نے اپنے بیان میں اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے دباؤ کے تحت ایک قیمتی بلغاری جیولری سیٹ، جو سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کو ایک عرب ملک کی شخصیت کی جانب سے تحفے میں ملا تھا، اس کی قیمت کم ظاہر کی۔ یہ پیش رفت کیس میں اہم سمجھی جا رہی ہے۔



















