اسلام آباد: سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے وکیل نے واضح طور پر کہا ہے کہ ان کے مؤکل سابق وزیراعظم اور بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے خلاف کسی بھی مقدمے میں سرکاری گواہ نہیں بن رہے، اور اس حوالے سے میڈیا اور سیاسی حلقوں میں گردش کرنے والی تمام خبریں بے بنیاد اور محض قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔
فیض حمید کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق نے میڈیا میں آنے والی ان اطلاعات کو سختی سے مسترد کیا جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ فیض حمید عمران خان کے خلاف مقدمات میں سرکاری گواہ بننے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی خبریں نہ صرف حقیقت کے برعکس ہیں بلکہ ان کا مقصد محض افواہوں اور غیر ضروری قیاس آرائیوں کو فروغ دینا ہے۔
بیرسٹر میاں علی اشفاق نے کہا کہ میڈیا اور بعض سیاسی حلقوں میں پھیلائی جانے والی یہ تمام باتیں مکمل طور پر بے بنیاد ہیں اور ان کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسی اطلاعات میں کوئی صداقت موجود نہیں اور ان دعوؤں کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا ہے۔
جب بیرسٹر میاں علی اشفاق سے یہ سوال کیا گیا کہ آیا انہوں نے اس معاملے پر براہِ راست اپنے مؤکل سے بات کی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ انہیں یہ بات بطورِ حقیقت معلوم ہے، جس سے یہ مؤقف مزید واضح ہو جاتا ہے کہ فیض حمید کے عمران خان کے خلاف سرکاری گواہ بننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
واضح رہے کہ 9 مئی کے واقعات کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے عمران خان اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کو سرکاری بیانیے کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے، تاہم فوج کے میڈیا ونگ آئی ایس پی آر نے اب تک اپنی کسی باضابطہ بریفنگ میں اس نوعیت کے کسی گٹھ جوڑ کی تصدیق نہیں کی۔
دوسری جانب وفاقی کابینہ کے بعض سینئر ارکان، جن میں وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ شامل ہیں، متعدد مواقع پر یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ 9 مئی کے واقعات عمران خان اور فیض حمید کے درمیان مبینہ منصوبہ بندی کا نتیجہ تھے۔ تاہم جب حکومتی ترجمانوں سے ان دعوؤں کی بنیاد سے متعلق سوال کیا گیا تو براہِ راست جواب دینے کے بجائے معاملہ آئی ایس پی آر پر چھوڑ دیا گیا۔
خیال رہے کہ اس تمام صورتحال کے تناظر میں عمران خان کے خلاف سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے گواہ بننے سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں، تاہم اب فیض حمید کے وکیل کی وضاحت کے بعد ان خبروں کی واضح طور پر تردید سامنے آ گئی ہے۔



















