جماعت اسلامی نے کراچی کے سانحہ گل پلازہ کے بعد سندھ اسمبلی میں حکومت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے تحریکِ التواء جمع کرا دی ہے، جس میں واقعے کی وجوہات اور ذمہ داران کے تعین کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر محمد فاروق نے سندھ اسمبلی میں تحریک پیش کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ کا المناک واقعہ شہر کے کرپٹ اور بوسیدہ انتظامی نظام کی سنگین خامیوں کو کھل کر بے نقاب کرتا ہے، جس کے باعث شہریوں کی جان و مال غیر محفوظ ہو چکی ہے۔
محمد فاروق نے فائر بریگیڈ کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع اور 1200 کنوں پر مشتمل گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کی ذمہ داری کا فوری اور شفاف تعین کیا جانا چاہیے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شہر میں بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث مزید مخدوش عمارتیں وجود میں آ رہی ہیں، جو عوام کی زندگی کے لیے مسلسل اور سنگین خطرات کا سبب بن رہی ہیں۔
پارلیمانی لیڈر نے زور دیا کہ سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جانا چاہیے اور اگر کسی کی ذمہ داری ثابت ہو تو اس کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کو موجودہ قوانین پر فوری اور مؤثر عملدرآمد کرنا ہوگا تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
واضح رہے کہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتے کی شب لگنے والی آگ پر تقریباً 36 گھنٹے کی مسلسل کوششوں کے بعد قابو پایا گیا۔ شدید آتشزدگی کے نتیجے میں عمارت کے دو حصے منہدم ہو گئے، جبکہ دم گھٹنے اور جھلسنے کے باعث اب تک 20 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں تقریباً 40 گھنٹوں بعد عمارت کے اندر داخل ہو سکیں اور وہاں پھنسے افراد کی تلاش کا باقاعدہ آپریشن شروع کیا گیا، جہاں شدید اندھیرے کے باعث اہلکار ٹارچ کی مدد سے سرچ آپریشن کر رہے ہیں۔



















