سندھ کابینہ نے سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ کو فی کس ایک کروڑ روپے مالی امداد دینے کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد متاثرہ خاندانوں کی فوری اور مؤثر مالی معاونت کو یقینی بنانا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں سانحے کے مختلف پہلوؤں، نقصانات کی نوعیت اور متاثرین کو فراہم کیے جانے والے ریلیف اقدامات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ گل پلازہ سانحے میں متاثر ہونے والے دکانداروں کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے کمشنر کے ذریعے 5،5 لاکھ روپے کچن اور یوٹیلیٹی اخراجات کی مد میں ادا کیے جا رہے ہیں۔ سندھ کابینہ نے اس موقع پر متاثرہ دکانداروں کو ایک، ایک کروڑ روپے کے بلاسود قرض فراہم کرنے کی بھی منظوری دی، تاکہ وہ دوبارہ اپنے کاروبار کا آغاز کر سکیں۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ سانحے سے متاثرہ افراد اور خاندانوں کو تنہا نہ چھوڑے اور انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ قرض حکومت سندھ کی جانب سے فراہم کیا جائے گا اور اس پر واجب الادا سود حکومت خود ادا کرے گی، تاکہ دکانداروں پر کسی قسم کا اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔
وزیراعلیٰ نے اجلاس کے دوران یہ بھی ہدایت دی کہ تمام متاثرہ دکانداروں کو دو ماہ کے اندر اندر کاروبار دوبارہ شروع کرنے کے لیے دکانوں کی سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو واضح طور پر کہا کہ متاثرین کی بحالی کے عمل میں کسی قسم کی کوتاہی یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
کابینہ اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ مستقبل میں ایسے افسوسناک سانحات سے بچاؤ کے لیے عمارتوں کے حفاظتی معیارات پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ متاثرین کا تحفظ اور انہیں دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔



















