کراچی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے زیرِ اہتمام چار مینار چورنگی پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ایؒ کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی جس میں نوجوانوں اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
شرکا نے نہ صرف شہدا کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد، استحکام اور سلامتی کے لیے خصوصی مناجات بھی کیں۔ اس موقع پر فضا سوگوار تھی اور شرکا کی جانب سے عالمِ اسلام میں امن اور یکجہتی کی اپیل کی گئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ناظم اسلامی جمعیت طلبہ کراچی سید محمد سمیر الحق نے خامنہ ای کی شہادت کو عالمِ اسلام کے لیے ایک بڑا سانحہ قرار دیا اور اس کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات امت کو کمزور کرنے کی سازش ہیں، تاہم شہدا کی قربانیاں بیداری اور اتحاد کا پیغام دیتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ فرقہ واریت اور داخلی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ مفادات کے لیے یکجہتی اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے امریکی قونصل خانے کے باہر احتجاج کے دوران جامعہ کراچی کے 2 طلبہ کی فائرنگ سے ہلاکت کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ اس واقعے کی فوری، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق کٹہرے میں لایا جائے تاکہ آئندہ ایسے سانحات کا سدباب ممکن ہو سکے۔
اختتام پر شرکا نے پرامن رہنے اور قانونی دائرے میں رہ کر آواز اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ مقررین نے کہا کہ نوجوان نسل کو جذبات کے بجائے حکمت اور شعور کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا تاکہ ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات بھی دیکھنے میں آئے جبکہ شرکاء منتشر ہونے کے بعد ٹریفک معمول پر آ گئی۔



















