سعودی دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارتخانے کی عمارت کے احاطے سے دو ڈرون ٹکرا گئے جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی، جبکہ ڈپلومیٹک کوارٹر میں دو دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر صورتحال پر قابو پایا۔
سعودی وزارت دفاع کے مطابق حملے میں سفارتخانے کی عمارت کو جزوی نقصان پہنچا تاہم عمارت خالی ہونے کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملے کا جواب جلد دیا جائے گا اور اس ردعمل میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا حساب بھی شامل ہو گا۔ ان کے بیان کے بعد خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ ماجد تخت روانچی نے وضاحت کی ہے کہ ایران نے سعودی عرب کی کسی تیل تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا۔ انہوں نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ان اقدامات کا قانونی جواز کیا ہے۔
علاقائی ماہرین کے مطابق کسی بھی سفارتخانے پر حملہ سفارتی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے، اور اگر اس واقعے کی ذمہ داری کسی ریاست پر عائد ہوتی ہے تو اس کے نتائج نہایت دور رس اور سنجیدہ ہو سکتے ہیں۔



















