پاکستان اسٹیٹ آئل نے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی ممکنہ قلت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی اطلاعات بے بنیاد ہیں اور عوام میں بلاوجہ تشویش پیدا کرنے کے لیے غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔ کمپنی کے مطابق ملک میں ایندھن کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور سپلائی کی صورتحال مستحکم ہے۔
کمپنی کی جانب سے وزارتِ پیٹرولیم اور متعلقہ اداروں کو بھیجی گئی تفصیلی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری سطح پر پیٹرول اور ڈیزل کا 20 دن سے زائد کا ذخیرہ موجود ہے جو ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس موجود اسٹاک اس کے علاوہ ہے جس سے مجموعی طور پر ایندھن کی فراہمی کی صورتحال مزید بہتر اور مستحکم ہو جاتی ہے۔
پی ایس او کے مطابق ملک میں ڈیزل کی تقریباً 80 فیصد ضروریات مقامی ریفائنریز کی پیداوار سے پوری کی جا رہی ہیں جس کے باعث ایندھن کی سپلائی میں تسلسل برقرار ہے اور کسی فوری بحران کا خطرہ نہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات کے باوجود سپلائی چین کو مستحکم رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی بلا تعطل جاری رہ سکے۔
کمپنی کے مطابق رواں ماہ کے دوران عمان سے پیٹرول کے دو کارگوز خریدے جا چکے ہیں جو شیڈول کے مطابق پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومتی تعاون سے سعودی عرب کی توانائی کمپنی سعودی ارامکو سے بھی پیٹرول کا ایک کارگو حاصل کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپریل کے پہلے ہفتے کے لیے پیٹرول کا ایک اور جہاز خرید لیا گیا ہے جبکہ 10 مارچ کو کھولے گئے ٹینڈر کے تحت 25 اپریل تک ایک اور کارگو حاصل ہونے کی توقع ہے۔
پی ایس او کے مطابق مختلف ٹینڈرز کے تحت موصول ہونے والی بولیوں کا جائزہ لے کر آئندہ مہینوں کے لیے درآمدی حکمت عملی طے کی جائے گی تاکہ ایندھن کی مسلسل دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔
حکام نے مزید کہا کہ آنے والے زرعی سیزن اور اسٹریٹیجک ذخائر کو مدنظر رکھتے ہوئے متبادل انتظامات پر بھی کام جاری ہے تاکہ کسی ممکنہ رکاوٹ کی صورت میں بھی ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی متاثر نہ ہو۔



















