امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان پر اسرائیلی حکومت حیران رہ گئی، جسے ایک غیر متوقع پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی تباہی کی توقع رکھنے والے حلقوں کی امیدیں ختم ہو گئیں، اور صورتحال نے اچانک نیا رخ اختیار کر لیا۔
اسرائیلی صحافی زیو روبنسٹین نے کہا کہ یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد دوبارہ جنگ شروع ہونے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا اس تمام صورتحال کا مشاہدہ کر رہی ہے اور حقیقت سے آگاہ ہے، جبکہ جدید ترین ایف 35 طیارے بھی تیل کے ایک بیرل کی قیمت کے مقابلے میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔
زیو روبنسٹین کا کہنا تھا کہ ایران ایک قدیم تہذیب ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ سے 1500 سال پہلے بھی موجود تھی اور آئندہ بھی طویل عرصے تک برقرار رہے گی۔
ایک اسرائیلی اہلکار نے بتایا کہ وہ ٹرمپ کے فیصلے پر حیران تھے، اور انہیں اس حوالے سے آخری لمحات میں معلومات فراہم کی گئیں، جبکہ مجموعی صورتحال پہلے سے طے شدہ محسوس ہو رہی تھی۔














