اسلام آباد میں وزیر اعظم شہباز شریف کل سعودی عرب کا اہم دورہ کریں گے، جہاں وہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے، اور اس ملاقات میں علاقائی و عالمی صورتحال کے ساتھ اسلام آباد میں جاری مذاکرات پر بھی تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق یہ دورہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں وزیر اعظم کا دوسرا دورہ ہے، جسے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید مضبوطی کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔
سعودی عرب میں قیام کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے، اور اس ملاقات کو خطے کی موجودہ صورتحال، پاکستان کی معاشی پالیسیوں اور سفارتی حکمت عملی کے تناظر میں انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ امور، اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری کے امکانات اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جبکہ ذرائع کے مطابق اس دورے کا ایک اہم ایجنڈا پاکستان کی ثالثی میں جاری امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا آئندہ لائحہ عمل بھی ہوگا۔
دورے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف سعودی عرب سے براہ راست ترکیہ روانہ ہوں گے، جہاں وہ اناطولیہ سفارتی فورم میں شرکت کریں گے، اور عالمی رہنماؤں کے سامنے پاکستان کا موقف پیش کرتے ہوئے علاقائی امن و استحکام سے متعلق اہم ملاقاتیں بھی کریں گے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک اہم سہولت کار کے طور پر ابھر رہا ہے، اور اس پیش رفت سے پاکستان کے عالمی کردار کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔



















