وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں جمعہ کے روز ہفتہ وار اضافی چھٹی دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے چار روزہ ورک ویک پالیسی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری دفاتر اب ہفتے میں صرف چار دن کھلیں گے اور دفتری امور پیر، منگل، بدھ اور جمعرات کو انجام دیے جائیں گے جبکہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو سرکاری دفاتر بند رہیں گے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ گریڈ 20 یا اس سے زائد اور ماہانہ تین لاکھ روپے سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افسران کی تنخواہوں میں دو دن کی کٹوتی کی جائے گی۔ یہ کٹوتی رضاکارانہ بنیادوں پر ہوگی اور اس کا اطلاق وفاقی اور صوبائی حکومتی اداروں کے افسران پر ہوگا، تاہم صحت اور تعلیم کے شعبوں میں خدمات انجام دینے والے افسران اس فیصلے سے مستثنیٰ ہوں گے۔ یہ نوٹیفکیشن وزیراعظم کی جانب سے گزشتہ روز اعلان کردہ کفایت شعاری مہم کے تحت جاری کیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں عالمی اور ملکی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کے لیے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی ہر ممکن کوشش ہے کہ سنگین عالمی حالات کے باوجود ملکی معیشت کو مستحکم رکھا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ قائم کی گئی خصوصی کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر اقدامات کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
وزیراعظم نے مزید ہدایت دی کہ کفایت شعاری کے تحت کیے جانے والے اقدامات کا تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی کرایا جائے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کفایت شعاری اقدامات کو مؤثر انداز میں نافذ کریں۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کفایت شعاری پالیسی کے تحت بند کی جانے والی سرکاری گاڑیوں کی تصاویر کابینہ ڈویژن کو بھجوائی جائیں گی جبکہ ورک فرام ہوم پالیسی کو مؤثر بنانے کے لیے ہر وزارت اپنی تفصیلی رپورٹ وزیراعظم آفس کو پیش کرے گی۔



















