اسلام آباد میں جاری سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال 2025-26 کے پہلے 10 ماہ، یعنی جولائی سے اپریل کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ 20.28 فیصد اضافے کے ساتھ بڑھ کر 31 ارب 98 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں تجارتی خسارہ 24 ارب 59 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا، جس کے مقابلے میں رواں سال اس میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو معیشت میں بڑھتے ہوئے عدم توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیرِ جائزہ مدت کے دوران پاکستان کی برآمدات میں 6.25 فیصد کمی دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں مجموعی برآمدات 25 ارب 21 کروڑ ڈالر تک محدود رہیں، جبکہ دوسری جانب درآمدات میں 6.94 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ بڑھ کر 57 ارب 19 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مجموعی معاشی عدم توازن میں اضافے کی بنیادی وجہ درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی ہے، جس کے باعث تجارتی خسارہ مزید بڑھ گیا ہے اور یہ رجحان معیشت کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتا ہے۔



















