وزیراعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب کے سرکاری دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی اس دورے میں وزیراعظم کے ہمراہ ہیں جبکہ اس دورے کو موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ حالیہ حالات کے پیش نظر وزیراعظم کے اس دورے کو وسیع تر تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آذربائیجان اور خلیجی ممالک پر ہونے والے حملوں پر پاکستان کو شدید تشویش ہے اور پاکستان برادر خلیجی ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خلیجی ممالک پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے کیونکہ ایسے حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ ترجمان کے مطابق پاکستان اس صورتحال میں تین بنیادی نکات پر زور دیتا ہے جن میں تمام ممالک کی خودمختاری کا احترام، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری کا راستہ اختیار کرنا شامل ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر کے ساتھ خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی گفتگو بھی ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد بھی دی اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستان خطے میں جاری کشیدگی کا پائیدار اور پرامن حل چاہتا ہے۔
طاہر حسین اندرابی نے مزید کہا کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے طرز عمل میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی اور سرحدیں بدستور بند ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اور ٹھوس اقدامات کا مطالبہ پاکستان کا مستقل مؤقف ہے۔



















