کراچی میں سال 2026 کے دوران سندھ میں ایچ آئی وی کیسز کی مجموعی تعداد بڑھ کر 894 تک پہنچ گئی ہے، جس میں 329 بچے بھی شامل ہیں، اور اس تیزی سے پھیلاؤ نے محکمہ صحت اور طبی ماہرین کے لیے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق صوبے میں ایچ آئی وی کے کیسز میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جسے ماہرین صحت نے ایک خطرناک رجحان قرار دیا ہے، اور اس صورتحال کو فوری توجہ کا متقاضی بتایا جا رہا ہے تاکہ مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال صوبے بھر میں کیسز کی مجموعی تعداد 894 تک جا پہنچی ہے، جبکہ ان میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو بچوں میں کیسز کا بڑھنا ہے، جہاں اب تک 329 بچوں میں وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے، جن میں 188 لڑکے اور 141 لڑکیاں شامل ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق اس بیماری کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات میں غیر محفوظ طبی طریقہ کار، استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، اور غیر تربیت یافتہ افراد کی جانب سے علاج میں لاپرواہی شامل ہیں، جو اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2019 کے رتوڈیرو اسکینڈل کے اثرات اب بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، جبکہ بالغ افراد میں بھی کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث وائرس کی روک تھام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک طبی مراکز میں صفائی اور جراثیم سے پاک کرنے کے اصولوں پر سختی سے عمل نہیں کیا جاتا، اس وائرس پر مکمل قابو پانا مشکل رہے گا، اور اس کے لیے مؤثر نگرانی اور اصلاحات ناگزیر ہیں۔
محکمہ صحت سندھ کے حکام کے مطابق صوبے بھر میں اسکریننگ اور آگاہی مہم جاری ہے، اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایچ آئی وی سے خوفزدہ ہونے کے بجائے بروقت تشخیص اور علاج پر توجہ دیں، کیونکہ جدید طبی سہولیات کی مدد سے اس بیماری کے ساتھ بھی ایک معمول کی زندگی گزاری جا سکتی ہے۔



















