کراچی میں گیس کی لوڈشیڈنگ اور عدم فراہمی نے سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے، جہاں شہریوں کو بھاری بلوں کی ادائیگی کے باوجود گیس دستیاب نہیں، جس کے باعث گھروں میں چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں اور روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
متاثرہ علاقوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ گیس کی مسلسل بندش کے باعث انہیں مہنگے ہوٹلوں سے کھانا خریدنے اور سلنڈر استعمال کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، جبکہ سلنڈر کی قیمتوں میں اضافے نے متوسط طبقے کے گھریلو بجٹ پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے، جس سے معاشی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سیاسی سطح پر بھی اس مسئلے پر ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں ایک سیاسی جماعت کے رہنماؤں نے اس بحران پر شدید تنقید کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور اس صورتحال کو شہر کے ساتھ ناانصافی قرار دیا ہے، جبکہ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری اقدامات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کیا جائے۔
دوسری جانب عوامی حلقوں نے بھی بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی پر شدید احتجاج کیا ہے، اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں گیس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو آنے والے دنوں میں مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں، اس لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں تاکہ اس بحران پر قابو پایا جا سکے۔



















