آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات پاکستان تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، جہاں مئی تک آنے والی ایل این جی کی 22 کارگوز رک جانے سے سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، اور اس صورتحال نے ملک میں گیس بحران کے امکانات کو بڑھا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایل این جی کی درآمد میں رکاوٹ کے باعث گیس کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں ملک بھر میں گیس کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جو صارفین کے لیے مزید مالی دباؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ درآمدی ایل این جی کی بندش سے گیس سیکٹر میں ریونیو شارٹ فال بڑھنے کا امکان ہے، اور اس کمی کو پورا کرنے کے لیے گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے تاکہ مالی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں سال سوئی گیس کمپنیوں کا مجموعی ریونیو ہدف 852 ارب روپے سے زائد مقرر کیا گیا ہے، جس میں سوئی ناردرن کا ہدف 515 ارب روپے جبکہ سوئی سدرن کا ہدف 347 ارب روپے رکھا گیا ہے، اور موجودہ صورتحال ان اہداف کے حصول کو متاثر کر سکتی ہے۔




















