چین کی معیشت نے رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں توقعات سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، جس کی بنیادی وجہ برآمدات میں اضافہ، خصوصاً الیکٹرانکس اور مشینری مصنوعات کی عالمی سطح پر مضبوط طلب کو قرار دیا جا رہا ہے۔
سرکاری اور مارکیٹ رپورٹس کے مطابق چین کی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو تقریباً 5 فیصد رہی، جو معاشی ماہرین کی پیش گوئی سے زیادہ ہے اور اس سے ملک کی اقتصادی رفتار میں بہتری کا عندیہ ملتا ہے۔
تاہم اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مثبت پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری ایران جنگ کے باعث عالمی تجارت، توانائی کی قیمتوں اور سپلائی چین پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے، جس سے عالمی معیشت کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ چین کی برآمدات میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، لیکن خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات مستقبل میں معاشی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے صورتحال پر مسلسل نظر رکھنا ضروری ہوگا۔



















