اسلام آباد میں سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے پھیلاؤ میں تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے صحت کے شعبے میں ایک سنگین صورتحال کی نشاندہی کی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق پاکستان، بھارت اور چین مل کر دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس سی کے بوجھ کا 39 فیصد حصہ رکھتے ہیں، جبکہ پاکستان ان 10 ممالک میں شامل ہے جہاں اس بیماری کے باعث 58 فیصد اموات رپورٹ ہوئی ہیں، جو اس مسئلے کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں غیر محفوظ انجیکشنز کا استعمال اور سرنجز کا بار بار استعمال اس بیماری کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ بن رہا ہے، جبکہ جعلی خودکار سرنجز کے استعمال سے تحفظ کا غلط تاثر بھی پیدا ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین 95 فیصد سے زائد تحفظ فراہم کرتی ہے، جبکہ ہیپاٹائٹس سی کا علاج 8 سے 12 ہفتوں کے اندر ممکن ہے، تاہم بروقت تشخیص اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ اس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔



















