پاکستان سے حج 2026 کے لیے حجاج کرام کی روانگی کا باقاعدہ آغاز 18 اپریل سے کیا جا رہا ہے، جس کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں تاکہ زائرین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
تفصیلات کے مطابق وزارتِ مذہبی امور نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب میں حجاج کرام کے لیے رہائش، کھانے اور ٹرانسپورٹ کے مکمل اور مؤثر انتظامات کر لیے گئے ہیں تاکہ ان کے قیام کو ہر لحاظ سے سہل بنایا جا سکے۔
وزارت کے مطابق حج آپریشن کے پہلے روز 660 حجاج کرام تین مختلف پروازوں کے ذریعے سعودی عرب روانہ ہوں گے، جبکہ “پہلے آؤ پہلے پاؤ” کے اصول کے تحت پہلے پہنچنے والے حجاج کے لیے رہائش گاہیں پہلے ہی مختص کر دی گئی ہیں۔
حجاج کرام کی آمد سے قبل انتظامی ٹیمیں مکمل طور پر متحرک ہو چکی ہیں، اور خدام الحجاج کی ایڈوانس ٹیم مدینہ منورہ پہنچ چکی ہے تاکہ استقبالیہ انتظامات کو حتمی شکل دی جا سکے اور حجاج کی آمد کو خوش اسلوبی سے یقینی بنایا جا سکے۔
ڈائریکٹوریٹ حج مدینہ میں ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں مکہ اور مدینہ کے کوآرڈینیٹرز سمیت حج میڈیکل مشن کے حکام نے شرکت کی، اور اجلاس کے دوران حجاج کی صحت، رہائش اور کھانے پینے کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزارتِ مذہبی امور کا کہنا ہے کہ حج آپریشن کی مکمل نگرانی جدید ڈیجیٹل نظام کے تحت کی جائے گی تاکہ کسی بھی شکایت کا فوری ازالہ ممکن بنایا جا سکے، جبکہ حجاج کرام کو سعودی عرب پہنچتے ہی موبائل سم کارڈز اور ‘نسک کارڈ’ کی بروقت فراہمی کے لیے بھی انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔
















