اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں درختوں کی کٹائی کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران بڑا حکم دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آئندہ اگر اسلام آباد کی حدود میں ایک بھی درخت کاٹا گیا تو اسے توہین عدالت تصور کیا جائے گا اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہوگی۔
عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران جسٹس خادم حسین سومرو نے سی ڈی اے کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران عدالت نے توہین عدالت کے کسی کیس میں سزا نہیں دی، تاہم موجودہ صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سی ڈی اے کا کوئی افسر درختوں کی کٹائی میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے مزید ہدایت دی کہ آئندہ سماعت پر ایک مستند ماحولیاتی ماہر کو عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ درختوں کی کٹائی کے اثرات اور اس کے تدارک پر تفصیلی رہنمائی فراہم کی جا سکے، جبکہ سی ڈی اے کو بھی ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے دلائل مکمل تیاری کے ساتھ پیش کرے تاکہ کیس کا فیصلہ کیا جا سکے۔
سماعت کے دوران جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ ہم اسی شہر میں رہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ خوبصورت رہے، انہوں نے ماضی کے کراچی اور موجودہ کراچی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وقت کے ساتھ شہروں کی خوبصورتی میں فرق واضح نظر آتا ہے، جس سے سبق حاصل کرنا ضروری ہے۔


















